Monthly Archives: April 2015

ینگ ڈاکٹرز ہڑتال اور صحت عامہ کی صورت حال ڈاکٹر اویس فاروقی : پاکستان سمیت دنیا بھر میں مختلف دن منائے جاتے ہیں جن کے منانے کا مقصد متعلقہ ایشوز کو اجاگر کرنے کے ساتھ ان کا حل تلاش کرنا ہوتا ہے ،مہذب ممالک میں تو کسی بھی خاص عالمی دن اور ایشو کے حوالے سے گزشتہ برسوں کی کاردگی اور آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کرنا ہوتا ہے جبکہ ہمارے ہاں کوئی بھی عالمی دن صرف اس لئے منایا جاتا ہے کہ یہ ”عالمی دن“ ہے ، صحت تعلیم ، انسانی حقوق، حیوانات، جمادات، نبادات سے لیکر ماحول اور ارتھ ڈے تک منایا جاتا ہے ۔ سمینار منعقد ہوتے ہیں ریسرچ پیپر پڑھے جاتے ہیں مسائل کے خاتمے کا عزم کیا جاتا ہے زندہ دنیا زندہ مسائل کے خاتمے کے لئے کوشاں رہتی ہے۔ گزشتہ دنوں 7 اپریل 2015ء کو پوری دنیا میں عالمی یوم صحت (ورلڈہیلتھ ڈے)منایا گیا ۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی زیر سرپرستی یہ دن منا یا جاتا ہے۔1948ء میں WHO نے با قاعدہ 7 اپریل کو اپنے کام کا آغازکیا تھا۔ اْسی سال بالکل پہلی دفعہ ،پہلی ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کا انعقاد کیا گیا۔ اس اسمبلی نے یہ فیصلہ کیا کہ 1950 سے ہر سال 7 اپریل کا دن ورلڈ ہیلتھ ڈ ے کی حیثیت سے منایا جایا کرے گا۔ دنیا تو اس دن کو کبھی نہیں بھولتی لیکن پاکستان میں اخبارات چینلز اور حکومت بھی اس دن کی اہمیت اور افادیت کے حوالے سے خاموش ہی دکھائی دیتی ہیں۔ ایک طرف پاکستان میں عوام کو بیک وقت صحت عامہ کے حوالے سے بے شمار مسائل درپیش ہیں۔ تو دوسری جانب ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتالیں، ہسپتالوں میں صحت عامہ کے حوالے سے نامناسب سہولیات اور معلومات کا فقدان جس کی بنا پر سیریس مریضوں کی ہلاکتوں کے ساتھ زخمیوں کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے، ینگ ڈاکٹرز کے کیا مطالبے ہیں گزشتہ کئی برسوں سے وہ اپنے مطالبات حکومت کے گوش گزار کر رہے ہیں کبھی ہڑتالیں تو کبھی مذاکرات لیکن ان کے مطالبات کی جانب پیش رفت ہوتی نظر نہیں آتی حکومت کی جانب سے مذاکرات کا لولی پاپ دیا جاتا ہے اور اس طرح کچھ عرصہ کے لئے ان کے احتجاج کو روک دیا جاتا ہے اور پھر کچھ ہی عرصے بعد یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو جاتا ہے آج کل بھی ینگ ڈاکٹر سڑکوں پر ہیں اور مریض سسک رہے ہیں ۔دیکھا جائے تو ہسپتالوں میں ینگ ڈاکٹر پر بہت زیادہ بوجھ ہے ایمر جنسی سے لیکر او پی ڈی اور وارڈز میں مصروف عمل ینگ ڈاکٹرز کو زہنی پریشانی سے بچانے اور یکسوئی سے کام کرنے کے ،لئے ان کے جو بھی جائز مطالبات ہیں حکومت کو ان پر ٹھنڈے دل سے غور کرتے ہوئے مان لینا چاہیے تا کہ مریضوں کے ساتھ ان کے لواحقین کی مشکلوں اور پریشانیوں میں بھی کمی آئے اور لڑائی جھگڑوں کی نوبت بھی نہ آئے جو اکثر ہوتے رہتے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں صحت عامہ کے حوالے سے درپیش مسائل ہیں جن کی طرف فوری توجہ کی ضرورت ہے ملک بھر میں مریضوں کی تعداد کے حساب سے ڈاکٹرز کی قلت ہے اس ضمن میں کچھ عرصہ پیشتر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن( پی ایم ائے) کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ملک بھر میں لگ بھگ 118 میڈیکل کالجز ہیں جن میں سے بمشکل 10 ادارے معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ پاکستان میں طب کی تعلیم حاصل کرنے والوں میں 80 فیصد تعداد خواتین کی ہوتی ہے، جن میں سے بیشتر تعلیم مکمل ہونے کے فوری بعد اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائگی شروع نہیں کرتیں۔جس کی وجہ معاشرتی پریشر ہے شادی کے بعد خاوند انہیں گھر گھرستی اور بچے پالنے کے لئے بٹھا دیتے ہیں یوں ملک و قوم کے پیسے کے ضیاع کے ساتھ ڈاکٹروں کی قلت کا ایک اہم سبب ہے اور صحت عامہ سے متعلق کئی مسائل کی وجہ بھی ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں لوگوں کو طبی سہولتوں تک عدم رسائی اور ڈاکٹرز کی کمی کی وجہ سے 80 فیصد زچگیاں گھروں پر غیر تربیت یافتہ دائیوں کے ہاتھوں ہوتی ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں نوزائیدہ بچے اور مائیں زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں ہر 1,200 کے قریب افراد کے لیے ایک ڈاکٹر، لگ بھگ 1,700 افراد کے لیے ایک ڈینٹسٹ اور 1,700 مریضوں کے لیے ہسپتال کا ایک بستر ہے۔ میڈیکل کے شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ملک میں طبی سہولتوں کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ صحت کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے جو اس وقت مجموعی قومی پیداوار کا محض 0.23 فیصد ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں صحت عامہ کی صورت حال کو بہتر بنانے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں اور اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت صحت کے شعبے کی وفاق سے صوبوں کو منتقلی اسی عمل کی ایک کڑی ہے۔اس کے علاوہ حکومت نے حال ہی میں دوا سازی کی صنعت کی نگرانی کے لیے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کے سلسلے میں آرڈینینس بھی جاری کیا ہے۔ جسے ایک احسن اقدام قرار اس لئے دیاجانا چاہیے کہ حکومت کے اس عمل اور نگرانی سے جعلی ادویات سے عوام کی جان چھوڑ سکتی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کو اپنی ریاستی ذمہ داری اداکرتے ہوئے شہریوں کے بینادی حقوق جن میں صحت سر فہرست ہے کے بجٹ میں اضافے کے ساتھ ایسی پالیسیاں بنانی چاہییں جس کا فائدہ عوام کو اور ڈاکٹرز حضرات یہاں سے کوچ کرنے کا نہ سوچیں۔ ملک میں پہلے ہی ڈاکٹرز کی قلت ہے جس کا فائدہ عطائیت، جعلی حکیم اور عامل اٹھاتے ہیں عوام جان و مال سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اس لئے حکومت کو صحت عامہ کی صورت حال پر فوری توجہ دیتے ہوئے عوام کو صحت کی سہولتیں خصوصاً دیہاتوں میں فراہم کرنے کے لئے پائیدار اقدامات اٹھانے چاہیں۔ ہسپتالوں میں مریضوں کا رش یہ بتاتا ہے کہ دیہی آبادی کی شہروں کی جانب تیزی سے نقل مکانی نے بڑے شہروں میں صحت کے اجتماعی اور انفرادی مسائل میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔پاکستان میں دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگ بہتر روزگار اور طرز زندگی کی تلاش میں تیزی سے شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔ گاوں سے شہر تک کے اس سفر میں ان کے ہمراہ ہیپاٹائٹس اور ٹی بی سمیت لاتعداد بیماریاں بھی منتقل ہو جاتی ہیں اور نتیجے کے طور پر بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے اور سہولیات کم پڑ تی جارہی ہیں۔ صحت کے لئے مناسب فنڈز دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات درپیش ہیں۔ علاج معالجے کے لئے ادویات کا حصول اور ڈاکٹرز کی فیس عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہے۔عوام کے دکھوں کا ازالہ صرف حکومت ہی کر سکتی ہے۔ © جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com
سیاسی اشرافیہ،پیسہ اور انتخابات ڈاکٹر اویس فاروقی : جس طرح مچھلی سر کی جانب سے گلنا شروع ہوتی ہے اسی طرح بعض ملکوں کا نظام بھی اوپر کی جانب سے گلنا شروع ہوتا ہے اورآخر کار ناکارہ ہو کر رہ جاتا ہے جس طرح ہمارا جمہوری نظام جیسے جمہوری کہنا بھی جمہوریت کی توہین ہے سر سے لیکر پاوں تک گل سڑ چکا ہے اس کے بطن سے صالح افراد کی توقع ہی عبث ہے۔ جس جمہوریت میں جمہور کو سرے سے ہی نظر انداز کر دیا جاتا ہو اسے جمہوریت کیسے کہا جاسکتا ہے جبکہ جمہوری عمارت کی بنیاد کی اینٹ مقامی حکومتوں کے قیام پر لیت و لعل سے کام لیا جاتا ہو بلکہ اس کے قیام کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہوں ایسی حکومت کو کیا جمہوریت کہا جاسکتا ہے؟ ابھی چند دن جاتے ہیں سینٹ کے انتخابات ہوئے ان انتخابات میں جس طرح خرید و فروخت کی باتیں سامنے آئیں اور ریٹ لگے اسے کیا کہا جانا چاہیے۔ جب ملک کے اعلی ایوان میں آنے والے عوام کے نمائندے جنہوں نے قانون سازی کرنی ہے عوامی مفادات کا خیال رکھنا ہے کے بارے یہ تاثر ہو کہ وہ پیسہ خرچ کر آئے ہیں تو ان کی کریڈیبلیٹی سوالیہ نشان بن کر نہیں رہ جاتی ۔یہاں ایک اس سوال کو بھی اٹھایا جانا چاہیے کہ اتنا بھاری پیسہ ان لوگوں کے پاس آتا کہاں سے اور کیا یہ پیسہ انکم ٹیکس سے مشتثنیٰ ہوتا ہے ۔ہم جس المیے سے دوچار ہیں اس کا حل موجودہ سیاسی رجیم کے پاس نہیں ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ موجودہ سیاسی رجیم ہی اس المیے کا باعث ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ اس سچائی پر اخباروں کی خبروں اور کالموں سے صفحے بھرے پڑئے ہیں اور چینلز میں لگنے والی رات کی منڈلی میں بھی یہی بتایا جاتا ہے کہ پاکستان کے دکھوں کا سبب ہمارے ملک کی سیاسی و مذہبی اشرافیہ ہے جو کسی بھی طرح کے کسی بھی اخلاقی میعار پر پورا نہیں اترتی ان لوگوں کا کمال صرف یہ ہے کہ یہ ذاتی مفادات کے حصول کے لئے ہی اقتدار میں آتے ہیں جس کے لئے دولت کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے ،کوئی ان سے یہ پوچھنے والا نہیں کہ بھائی سیاست اگر ”عبادت اور خدمت“ ہے تو اتنا پیسہ خرچ کر کے کیوں انتخاب لڑتے ہو اور یہ پیسہ کیا حلال کی کمائی کا ہے؟ گزشتہ چند روز کی خبروں نے عام آدمی کا دل دہلا کر رکھ دیا ہے کہ تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایمر جینسی تک میں ادویات میسر نہیں غریب لوگوں کے لئے زندگی بچانا مشکل ترین امر بن چکا ہے ۔ جبکہ ہماری الیٹ کلاس جو ان ہی غریبوں کے ووٹوں سے منتخب ہو کر لگژری لائف گزار رہی ہے ان کے حال سے بے خبر ہے۔ عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف اپنے مخالفین کے خلاف تو شعلہ بیان رہتی ہے بلکہ عمران خان اپنے ہر جلسے میں ہر سیاسی جماعت کے لتے لیتے رہتے ہیں مگر ان کی زبان پر بھی پاکستانی عوام کے مسائل یا ان کے ساتھ ہونے والے ظلم پر کوئی لفظ نہیں آتا ۔کیا وہ نہیں جانتے کہ اس وقت اگر کسی نے سیاست کرنی اور کامیاب ہونا ہے تو جب تک عوام کا نبض شناس نہیں ہو گا عوام اسے گھاس بھی نہیں ڈالے گی عوام روائتی سیاست دانوں سے اس قدر عاجز آچکی ہے کہ ان کا نام بھی سننا گوارہ نہیں کرتی اور اگر عوام کی امیدوں کا استعارہ عمران خان نے بننا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ سیاست دانوں کا برا بھلا کہنے کے بجائے غریب ،پسے ہوئے کزور طبقوں کی آواز بن کر سامنے آئے ۔ اس کے ساتھ ہی سینٹ الیکشن میں جن لوگوں نے ووٹ خریدے یا فروخت کئے ہیں انہیں سامنے لائیں جب تک ملک میں شفاف الیکشن نہیں ہوتے ملکی نظام میں بہتری کی امید نہیں کی جاسکتی۔ایک ایسے آزاد اور خود مختار الیکشن کیمشن کا مطالبہ ہر وقت جاری رہنا چاہیے جو انتخابات کو منصفانہ بنانے اور عام آدمی کی شمولیت کو یقینی بنانے کے ساتھ کرپشن میں لتھڑئے افراد کو ایوانوں میں آنے سے روکنے کی چارہ جوئی کرنے کا بھی مجاز ہو جس طرح بھارت میں الیکشن کمیشن آزاد ہے ایسے ہی ہمیں بھی آزاد الیکشن کمیشن کی شدید ضرورت ہے۔حالانکہ پچھلے چند ماہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو نشانہ بنائے رکھا۔ انھیں شکایت ہے کہ دوران الیکشن دھاندلی روکنے کے لیے کمیشن خاطر خواہ اقدامات نہیں کر سکا۔اب جبکہ بلدیاتی انتخابات کی تاریخ بھی سامنے آچکی ہے انہیں اپنے آزاد اور خود مختار الیکشن کیمشن کے مطالبے میں شدت لانی چاہیے تا کہ بنیادی جمہوریت مظبوط ہوسکے۔ میڈیا میں بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ دنوں بھارتی الیکشن کمیشن کے زیر اہتمام پارلیمانی انتخابات کامیابی سے انجام پائے۔ حالانکہ بھارت آبادی اور رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا بڑا ہے۔ بھارتی کمیشن کی کامیابی کا راز کیا ہے؟اس ضمن میں ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی الیکشن کمیشن آزاد و خودمختار ادارہ ہے۔ اسی آزادی نے اسے ایک طاقتور ادارہ بنا دیا ہ۔ حتیٰ کہ پچھلے دنوں بھارتی بری فوج کے نئے سربراہ جنرل دلبیرسنگھ کا تقرر بھی الیکشن کمیشن کی اجازت ہی سے ہوا۔سوال یہ ہے کہ کیا بھارتی بری فوج کے چیف کی تقرری میں الیکشن کمیشن کا بھی کردار ہے؟ عام حالات میں کمیشن کا اس اہم تقرری سے کوئی سروکار نہیں ہوتا، مگر جیسے ہی انتخابات ہونے کا اعلان ہوتا ہے وہ بھارت کا عارضی حکمران ادارہ بن جاتا ہے۔امن و امان سے منصفانہ الیکشن کرانے کے لیے بھارتی آئین نے الیکشن کمیشن کو بے پناہ اختیارات دے رکھے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ کمیشن دلیری اور بہادری سے یہ اختیارات استعمال کرتا ہے۔ اسی باعث وہ دنیا میں سب سے بڑا انتخابی میلا بھی کامیابی سے منعقد کرا لیتا ہے۔بھارت میں 80کروڑ سے زیادہ ووٹر بستے ہیں۔ پھر لسانی، جغرافیائی اور دیگر مسائل مدنظر رکھے جائیں، تو انتخابات کا عمل مشکل ترین مرحلہ نظر آتا ہے ۔ اس کے باوجود بھارتی الیکشن کمیشن کامیابی سے انتخابات کراتا ہے۔ اور سبھی امیدوار و جماعتیں انتخابی نتائج تسلیم کر لیتی ہیں۔ اس پر مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی عاجلانہ و فوری قدم نہیں اٹھاتا۔دوسری طرف الیکشن کمیشن پاکستان ہر انتخابات کے موقع پر تنازعات و اسکینڈلز کا نشانہ بن جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ازروئے آئین پاکستان الیکشن کمیشن کو بھی بھارتی کمیشن جیسی خودمختاری اور اختیارات حاصل ہیں۔ تاہم ان کے مابین کچھ فرق بھی ہیں۔ عمران خان کو اپنے بینادی مطالبے میں آزاد اور خود مختار الیکشن کیمشن کے مطالبے پر ہی سیاست کرنی چاہئے تا کہ ملک کا بھلا ہو صاف اور شفاف لوگ اسمبلیوں میں آئیں اور عوام کے لئے فلاحی منصوبے شروع کر سکیں۔ © جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com